تیل کے سمندر پر بسا ملک جو بوند بوند کو ترستا ہے
- دنیا کے نقشے پر ایک
ایسا ملک بھی موجود ہے جسے دنیا کا سب سے نیا ملک کہا جاتا ہے، لیکن اس کی
داستان صدیوں پرانی معلوم ہوتی ہے۔ جنوبی سوڈان، جو 2011 میں ایک
پرجوش آزادی کے خواب کے ساتھ ابھرا، آج بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود غربت
اور مسائل کی تصویر بنا ہوا ہے۔
- قدرتی وسائل اور
معاشی تضاد
- جنوبی سوڈان کی زمین
کے نیچے "کالا سونا" یعنی تیل بہتا ہے، اور اس کے
پیروں تلے اصلی سونا، تانبہ اور یورینیم جیسے خزانے دفن ہیں۔ حیرت انگیز بات
یہ ہے کہ اس ملک کی معیشت کا 98
فیصد انحصار تیل پر ہے،
لیکن یہ دولت عوام کی خوشحالی کے بجائے مصیبت کا باعث بن گئی ہے۔ تیل سے ہونے
والی آمدنی کا بڑا حصہ یا تو کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے یا جنگی ساز و سامان کی
خریداری میں خرچ کر دیا جاتا ہے۔
- آبادی اور معاشرت
- جنوبی سوڈان کی کل
آبادی تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ہے۔ مذہبی لحاظ سے یہاں کی
تقسیم کچھ یوں ہے:
- 60 فیصد
عیسائی۔
- 32 فیصد
مقامی افریقی روایتی مذاہب کے پیروکار۔
- تقریباً 6 فیصد
مسلمان (جو
زیادہ تر شمالی علاقوں میں آباد ہیں)۔
- یہاں 60 سے زائد
مختلف قبائل آباد ہیں، جن میں ڈنکا اور نوید سب سے بڑے قبائل ہیں۔ ہر
قبیلے کی اپنی منفرد زبان، لباس اور روایات ہیں جو اس ملک کو ثقافتی طور پر
امیر بناتی ہیں۔
- خانہ جنگی کی تباہ
کاریاں
- آزادی کے محض دو سال
بعد، 2013 میں اقتدار کی جنگ نے ملک کو ایک ایسی خانہ جنگی میں دھکیل
دیا جس نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ اس جنگ کی وجہ سے اسکول، ہسپتال اور سڑکیں
کھنڈر بن گئیں اور لاکھوں لوگ پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہو گئے۔
- عوام کی زندگی: غربت
اور مشکلات
- جنوبی سوڈان میں
زندگی کی حقیقت انتہائی تلخ ہے:
- بھوک:
تقریباً 76 فیصد آبادی رات کو بھوکے
پیٹ سوتی ہے اور ہر 10 میں سے 7 افراد کے پاس روزمرہ کھانے کے لیے کچھ نہیں
ہوتا۔
- آمدنی:
اکثر لوگ روزانہ صرف 200 سے 300 روپے
میں گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
- تعلیم اور صحت:
شرح خواندگی صرف 30 فیصد ہے اور
معمولی بیماریاں جیسے ملیریا اور ٹائیفائیڈ بھی علاج کی کمی کی وجہ سے جان
لیوا ثابت ہوتی ہیں۔
- صاف پانی:
صاف پانی یہاں ایک "لگژری"
ہے، جس کے لیے خواتین اور بچوں کو روزانہ کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔
- ثقافت اور امید کی
کرن
- ان تمام مشکلات کے
باوجود جنوبی سوڈان کے لوگوں میں زندگی کی رمق باقی ہے۔ یہاں دولت کا معیار
بینک بیلنس نہیں بلکہ گائے ہے۔ گائے کو سماجی حیثیت اور عزت کی علامت
سمجھا جاتا ہے اور شادی بیاہ میں جہیز کے طور پر بھی گایوں کا لین دین عام
ہے۔ یہاں کے لوگ موسیقی اور رقص کے بے حد شوقین ہیں، جو ان کے لیے خوشی منانے
اور غم بھلانے کا ایک ذریعہ ہے۔
- نتیجہ
- جنوبی سوڈان کی
کہانی پوری انسانیت کے لیے ایک سوال ہے کہ کیا ایک ملک سونے کے ڈھیر پر بیٹھ
کر بھی بھوکا مر سکتا ہے؟۔ اس ملک میں اصل تبدیلی تبھی آئے گی جب یہاں
پائیدار امن قائم ہوگا اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔
- کیا آپ جنوبی سوڈان کے ان قبائل کی روایات یا وہاں کی معاشی صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہیں گے؟

Comments
Post a Comment