پاکستان نے دنیا کو جنگ سے بچا لیا — وہ رات جو تاریخ بن گئی

 پاکستان نے دنیا کو جنگ سے بچا لیا — وہ رات جو تاریخ بن گئی



منگل اور بدھ کی درمیانی رات تھی۔ پاکستانی وقت کے مطابق گھڑی تین بج کر 32 منٹ دکھا رہی تھی۔ واشنگٹن میں شام کے 6:32 تھے اور ایران میں رات کے دو بج کر دو منٹ۔

پوری دنیا سانس روکے بیٹھی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دی ہوئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں صرف ایک گھنٹہ 28 منٹ باقی تھے۔ انہوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ آج رات ایران پر حملہ ہو گا۔ دھمکی بھی دے چکے تھے کہ ایران کو "پتھر کے دور" میں واپس دھکیل دیا جائے گا۔ اور سب سے خوفناک الفاظ یہ تھے کہ "آج رات پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔"

لوگ سوچ رہے تھے کہ شاید جوہری حملہ ہونے والا ہے۔ خلیج میں تیل کی سپلائی رک جائے گی۔ تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔

لیکن پھر کچھ اور ہوا۔


وہ پوسٹ جس نے سب کچھ بدل دیا

ٹھیک اسی وقت امریکی صدر ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ آئی۔

ٹرمپ نے لکھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان سے گزارش کی ہے کہ آج رات ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر تیار ہو گیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگ روکنے کی وجہ یہ ہے کہ تمام فوجی مقاصد پہلے ہی حاصل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز آئی ہے اور یہ مذاکرات کے لیے ایک ٹھوس بنیاد ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ماضی کے تقریباً تمام تنازعات پر اتفاق ہو چکا تھا۔ بس آگے کا کام دو ہفتوں میں مکمل کرنا تھا۔

دنیا نے چین کا سانس لیا۔


پاکستان نے کیا کیا؟

یہ سب اچانک نہیں ہوا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سے پہلے ہی ایک اہم اپیل کی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ سے درخواست کی تھی کہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کی جائے تاکہ سفارت کاری کام کر سکے۔ ساتھ ہی ایران سے بھی کہا کہ وہ نیک نیتی کے ثبوت کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دے۔

شہباز شریف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دیا جائے۔"

پاکستان میں موجود ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی تصدیق کی کہ صورتحال بہت نازک مرحلے سے ایک قدم آگے نکل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب لفاظی کی نہیں، سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

اور پھر ایران کی طرف سے سرکاری اعلان آ گیا۔


ایرانی وزیر خارجہ کا اعلان

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری بیان جاری کیا جسے خود ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

عراقچی نے لکھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جنگ روکنے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر حملے رکتے ہیں تو ایرانی مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔ آبنائے ہرمز دو ہفتوں کے لیے کھول دی جائے گی البتہ ایرانی فوج سے رابطہ رکھنا ضروری ہو گا۔

یہ بیان تاریخی تھا۔


اسرائیل کا موقف

اسرائیل نے جنگ بندی کی حمایت تو کی لیکن ایک بات واضح کر دی۔ لبنان پر اس جنگ بندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بن سکے۔ امریکہ نے اسرائیل کو یقین دلایا کہ مذاکرات کے دوران یہ مشترکہ مقاصد حاصل کیے جائیں گے۔


اسلام آباد مذاکرات کا اعلان

شہباز شریف نے ایکس پر لکھا کہ ایران اور امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت ہر جگہ بشمول لبنان فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کو 10 اپریل 2026 جمعے کے روز اسلام آباد آنے کی دعوت دی تاکہ تمام تنازعات کا حتمی حل نکالا جا سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کی بنیاد بنیں گے۔


ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا

یہ وہ 10 نکات ہیں جن پر امریکہ مذاکرات پر تیار ہوا۔ ایرانی سرکاری ادارے کے مطابق یہ نکات اس طرح ہیں۔

1.  عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ

2.  ایران کے خلاف جنگ کا مستقل اور غیر مشروط خاتمہ

3.  پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام

4.  آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا

5.  آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے واضح پروٹوکول

6.  ایران کی تعمیر نو کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی

7.  ایران پر تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ

8.  امریکہ میں منجمد ایرانی اثاثوں کی فوری واپسی

9.  ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی

10.                    یہ تمام شرائط مانے جانے پر تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی

ٹرمپ نے خود اسے "مذاکرات کی قابل عمل بنیاد" قرار دیا۔


ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا بیان

ایران نے کہا کہ پچھلے چالیس دنوں میں ایرانی عوام اور فوج کی مزاحمت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ کونسل نے کہا کہ جنگ کے بیشتر مقاصد حاصل ہو چکے ہیں اور اب مذاکرات میں حاصل ہونے والی فوجی فتوحات کو سیاسی سطح پر بھی مستحکم کیا جائے گا۔

کونسل کے مطابق مذاکرات زیادہ سے زیادہ 15 دن جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر توسیع بھی ہو سکتی ہے۔


یہ لمحہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان نے آج جو کردار ادا کیا وہ بہت کم ممالک کر پاتے ہیں۔

ایک طرف امریکہ جیسی سپر پاور تھی۔ دوسری طرف ایران جو کسی کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں تھا۔ درمیان میں پاکستان نے ایسا راستہ نکالا جس میں کسی کی توہین بھی نہیں ہوئی اور جنگ بھی رک گئی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مشترکہ سفارتی کوشش نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف ایک فوجی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی قوت بھی ہے۔

دنیا نے دیکھا کہ جب باقی سب خاموش تھے تب پاکستان نے آواز اٹھائی اور نتیجہ نکالا۔

اسلام آباد اب صرف ایک دارالحکومت نہیں۔ یہ امن کی امید کا نام بن گیا ہے۔

#PakistanDiplomacy
#IranUSWar
#IslamabadTalks
#PakistanPeaceMaker
#ShahbazSharif
#AsimMunir
#StraitOfHormuz
#MiddleEastCrisis
#TrumpIranDeal
#CeasefireNow
#PakistanProud
#WorldPeace2026
#IranNuclearDeal
#IslamabadPeaceTalks
#PakistanOnWorldStage

 

Comments

Popular posts from this blog

Why Pakistan Air Force is Among the World’s Strongest Forces

جنوبی پنجاب کے منفرد پہاڑی مقام فورٹ منرو کی سیر

ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی، جہاں اس کا والد ایک شعبے کا انچارج تھا