جب ایران کا سب سے طاقتور انسان شہید ہوا آخری لمحات کی داستان

 

آیت اللہ علی خامنہ ای

ایران کے دوسرے سپریم لیڈر  مکمل سوانح عمری

19 اپریل 1939ء  28 فروری 2026ء | دورِ حکمرانی: 36 سال

مختصر تعارف

آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایران کے دوسرے اور طویل عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سپریم لیڈر تھے۔ انہوں نے 1989ء سے 2026ء تک  یعنی 36 سال و 9 ماہ تک  اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کی۔ وہ اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھی، صدر اور پھر جانشین بنے۔ ان کا دور ایران کی تاریخ کا سب سے پیچیدہ، طویل اور حساس دور تھا۔

 ابتدائی زندگی اور پس منظر

پیدائش: آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ مشہد ایران کا دوسرا بڑا شہر اور حضرت امام علی رضاؑ کی درگاہ کی وجہ سے شیعہ مسلمانوں کا اہم مرکز ہے۔

خاندانی پس منظر: ان کے والد سید جواد خامنہ ای ایک متقی عالمِ دین تھے۔ خاندان مالی لحاظ سے خوشحال نہ تھا۔ مذہبی ماحول نے انہیں ابتدا سے ہی دین کی تعلیم کی طرف راغب کیا۔

علمی سفر: انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم مشہد کے مدارس میں حاصل کی۔ پھر عراق کے شہر نجف اشرف گئے۔ بعد ازاں قم کے حوزہ علمیہ میں آیت اللہ بروجردی اور آیت اللہ روح اللہ خمینی سے تعلیم حاصل کی۔

خمینی سے ان کی وابستگی محض استاد اور شاگرد کی نہ رہی بلکہ یہ ایک انقلابی رشتے میں بدل گئی جس نے ایران کی تقدیر بدل دی۔

انقلاب سے پہلے  شاہ کے خلاف جدوجہد

1960ء کی دہائی میں جب خمینی نے شاہ ایران محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف آواز بلند کی تو خامنہ ای پوری طرح اس تحریک میں کود پڑے۔ انہوں نے مشہد اور دیگر شہروں میں خمینی کے پیغامات پھیلائے اور خفیہ اجتماعات کا اہتمام کیا۔

گرفتاریاں اور اذیتیں: شاہ کی خفیہ پولیس ساواک نے انہیں 1960ء سے 1978ء کے دوران کم از کم چھ بار گرفتار کیا۔ قید کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔

جلاوطنی: کئی مرتبہ انہیں ایران کے دور دراز علاقوں میں صوبہ بدر کیا گیا تاکہ وہ تحریک سے کٹ جائیں، لیکن انہوں نے ہر موقع کو عوام تک اپنی بات پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔

جیل کے دنوں میں انہوں نے علامہ اقبال کی شاعری اور انقلابی ادب پڑھا اور کچھ اہم کتابوں کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا۔

اسلامی انقلاب  فروری 1979ء

جنوری 1979ء میں شاہ ایران ملک چھوڑ کر فرار ہوا اور یکم فروری 1979ء کو آیت اللہ خمینی پندرہ سال کی جلاوطنی کے بعد تہران واپس آئے۔ لاکھوں ایرانیوں نے ان کا استقبال کیا۔ چند ہی دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران قائم ہوئی۔

ابتدائی ذمہ داریاں: خامنہ ای کو نئی حکومت میں فوری طور پر اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں  تہران کے نائب گورنر، انقلابی گارڈ کی نگرانی کمیٹی کے رکن اور وزارتِ دفاع میں نائب وزیر۔

امام خمینی کی نظر میں: خمینی نے انہیں 'میرا عزیز پسر' کہا اور ان پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا۔

صدارت کا دور  1981ء تا 1989ء

اکتوبر 1981ء میں خامنہ ای انتخاب جیت کر ایران کے تیسرے صدر بنے۔ 1985ء میں دوبارہ منتخب ہوئے اور 1989ء تک اس عہدے پر رہے۔

1981ء  بم دھماکے میں زخم

جون 1981ء میں تہران میں نماز جمعہ کے دوران ان کے قریب ایک بم پھٹا۔ اس دھماکے میں ان کا دایاں ہاتھ مستقل طور پر ناکارہ ہو گیا۔ ساری زندگی وہ دایاں ہاتھ سینے سے لگائے رہے  یہ زخم ان کی شناخت بن گیا۔

ایران-عراق جنگ  1980ء تا 1988ء

ستمبر 1980ء میں عراقی صدر صدام حسین نے ایران پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ آٹھ سال جاری رہی اور تاریخ کی طویل ترین اور تباہ کن جنگوں میں سے ایک بنی۔

جانی نقصان: دونوں اطراف سے تخمیناً پانچ لاکھ سے دس لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ خامنہ ای نے بطور صدر اس جنگ کی سیاسی قیادت کی اور مورچوں پر جا کر سپاہیوں کا حوصلہ بڑھایا۔

کیمیائی ہتھیار: صدام نے ایرانی فوجیوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جبکہ مغرب نے آنکھیں بند رکھیں۔ اس تجربے نے خامنہ ای کے ذہن میں مغرب کے بارے میں گہرا عدم اعتماد بٹھا دیا جو آخر تک برقرار رہا۔

جنگ بندی: 1988ء میں آیت اللہ خمینی نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد 598 قبول کی اور جنگ ختم ہوئی۔

سپریم لیڈر  جون 1989ء

3 جون 1989ء کو آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوا۔ خبرگان اسمبلی نے غور و خوض کے بعد علی خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا۔

ابتدائی مشکلات: ناقدین نے نشاندہی کی کہ وہ مذہبی اعتبار سے مرجع تقلید کے درجے کے نہیں تھے۔ لیکن آئین میں ترمیم کر کے شرط ہٹا دی گئی اور ان کا درجہ آیت اللہ العظمیٰ قرار دے دیا گیا۔

اقتدار کا ارتکاز: اگلے چند برسوں میں خامنہ ای نے عدلیہ، میڈیا، IRGC، قومی سلامتی کونسل اور تمام اہم ادارے اپنے کنٹرول میں لے لیے۔

سپریم لیڈر کے دور کے اہم واقعات

1  1990ء: خلیجی جنگ میں غیر جانبداری

جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا اور امریکی اتحاد نے عراق پر حملہ کیا تو خامنہ ای نے ایران کو غیر جانبدار رکھا۔ انہوں نے صدام کی بھی مذمت کی اور امریکی موجودگی کو بھی خطرہ قرار دیا۔

2  1997ء: اصلاح پسند صدر خاتمی

1997ء میں محمد خاتمی نے آزادئ اظہار اور مغرب سے بہتر تعلقات کے نعرے کے ساتھ بھاری اکثریت سے صدارتی انتخاب جیتا۔ خامنہ ای نے عدلیہ اور سیکیورٹی اداروں کے ذریعے ان کے ہر اصلاحی قدم کو ناکام بنا دیا۔

3  1999ء: طلبہ تحریک

جولائی 1999ء میں تہران یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج شروع کیا جو اٹھارہ شہروں تک پھیل گیا۔ خامنہ ای نے IRGC اور بسیج ملیشیا کو مظاہرین کے خلاف استعمال کیا۔ درجنوں طلبہ مارے گئے اور سیکڑوں گرفتار ہوئے۔

4  2003ء: عراق جنگ کے بعد ایرانی اثر و رسوخ

امریکہ کے عراق پر حملے اور صدام کے زوال کے بعد خامنہ ای نے فائدہ اٹھایا۔ ایران نے عراق میں شیعہ سیاسی جماعتوں اور ملیشیاؤں کی مدد کی اور عراق کی سیاست پر گہرا اثر ڈالنا شروع کیا۔

5  2005ء: احمدی نژاد کی آمد

2005ء میں خامنہ ای کی سرپرستی میں محمود احمدی نژاد صدر بنے جو کھل کر اسرائیل کو مٹانے کی بات کرتے اور ہولوکاسٹ کا انکار کرتے تھے۔ ان کے دور میں ایران کا ایٹمی پروگرام تیز ہوا اور مغرب سے کشیدگی عروج پر پہنچی۔

6  2009ء: گرین موومنٹ

جون 2009ء میں صدارتی انتخاب کے بعد احمدی نژاد کو فاتح قرار دیا گیا۔ اپوزیشن کے مطابق دھاندلی ہوئی۔ لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکل آئے اور 'میرا ووٹ کہاں گیا؟' کا نعرہ تہران کی گلیوں میں گونجا  یہ 1979ء کے بعد ایران کا سب سے بڑا عوامی احتجاج تھا۔

خامنہ ای نے احمدی نژاد کی کامیابی کو 'الٰہی فیصلہ' قرار دیا اور مظاہرین کو 'دشمن ایجنٹ' کہا۔ اندازاً 72 سے 150 افراد جاں بحق اور ہزاروں گرفتار ہوئے۔

7  2015ء: ایٹمی پروگرام اور JCPOA

سالوں کی مذاکرات کے بعد جولائی 2015ء میں صدر روحانی کی حکومت نے چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ JCPOA معاہدہ کیا۔ ایران نے یورینیم افزودگی محدود کی اور بدلے میں معاشی پابندیاں ہٹائی گئیں۔ خامنہ ای نے منظوری دی لیکن ہمیشہ کہا: 'میں امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتا'۔

8  2018ء: ٹرمپ کا JCPOA توڑنا

مئی 2018ء میں امریکی صدر ٹرمپ نے یکطرفہ JCPOA سے دستبرداری اختیار کی اور سخت ترین پابندیاں عائد کیں۔ ایران کی معیشت تباہ ہوئی، تیل کی برآمد تقریباً بند ہو گئی اور ایران نے یورینیم افزودگی دوبارہ تیز کر دی۔

9  2019ء: عوامی بغاوت

نومبر 2019ء میں پیٹرول کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے کے اعلان نے ملک بھر میں مظاہرے بھڑکا دیے۔ آیمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ انٹرنیٹ مکمل طور پر کاٹ دیا گیا۔

10  جنوری 2020ء: جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت

3 جنوری 2020ء کو بغداد ایئرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں IRGC کے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی جاں بحق ہوئے۔ سلیمانی خامنہ ای کے سب سے قابلِ اعتماد فوجی کمانڈر تھے۔

خامنہ ای علناً روئے  شاید ان کی زندگی کا سب سے جذباتی عوامی لمحہ۔ ایران نے جوابی کارروائی میں عراق میں امریکی اڈوں پر درجنوں میزائل داغے  یہ ایران کی طرف سے امریکی اڈوں پر پہلی براہِ راست فوجی کارروائی تھی۔

11  2022ء: مہسا امینی تحریک

ستمبر 2022ء میں 22 سالہ مہسا امینی کو حجاب کے معاملے پر مذہبی پولیس نے گرفتار کیا اور وہ حراست میں جاں بحق ہو گئی۔ 'عورت، زندگی، آزادی' کے نعرے کے ساتھ ایران کے تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔

حکومت نے 500 سے زائد مظاہرین کو ہلاک کیا، 18000 سے زیادہ گرفتار ہوئے اور بعض کو پھانسی دی گئی۔ خامنہ ای نے مظاہرین کو 'امریکہ اور صہیونیوں کے آلہ کار' قرار دیا۔

12  اکتوبر 2023ء: حماس حملہ اور نتائج

7 اکتوبر 2023ء کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا جس میں 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے۔ اسرائیل نے غزہ پر یلغار کی اور لبنان میں حزب اللہ کو بھی نشانہ بنایا۔ ستمبر 2024ء میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوئے۔

13  دسمبر 2024ء: شام کا سقوط

اسرائیلی فضائی حملوں نے شام میں ایرانی ہتھیاروں کی ترسیل لائنیں کاٹ دیں اور بشار الاسد کی حکومت کمزور ہو گئی۔ دسمبر 2024ء میں باغی گروہوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد روس فرار ہو گئے۔ یہ خامنہ ای کی علاقائی حکمتِ عملی کی سب سے بڑی شکست تھی۔

14  جون 2025ء: ایٹمی تنصیبات پر حملے

جون 2025ء میں اسرائیل نے امریکی حمایت سے ایران کی ایٹمی تنصیبات نطنز، فردو اور اصفہان کو نشانہ بنایا۔ 21 جون 2025ء کو امریکہ نے براہِ راست تین اہم ایٹمی مراکز کو تباہ کر دیا۔ ایران نے جوابی میزائل حملے کیے لیکن دفاعی نظام نے انہیں ناکام بنا دیا۔

15  دسمبر 2025ء: آخری عوامی بغاوت

دسمبر 2025ء کے آخر میں ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے۔ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق 7000 سے زائد مظاہرین جاں بحق ہوئے  یہ اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کا سب سے خونریز دور تھا۔

آخری لمحات  شہادت

28 فروری 2026ء کی رات امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی آپریشن شروع کیا۔ تہران اور دیگر شہروں میں اہم عسکری اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے دفتر میں اسرائیلی-امریکی میزائل حملوں میں شہید ہو گئے۔ 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ وہ 86 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔

خامنہ ای کا ورثہ  تاریخ کا فیصلہ

آیت اللہ خامنہ ای ایک متنازعہ شخصیت تھے۔ ان کے حامیوں کے نزدیک وہ امریکی-صہیونی سامراج کے خلاف اسلامی مزاحمت کا پرچم تھامے رہنے والے رہنما تھے جنہوں نے سخت ترین حالات میں بھی ایران کو سر جھکانے پر مجبور نہیں ہونے دیا۔

ان کے ناقدین کے نزدیک وہ ایک آمر تھے جنہوں نے ہزاروں مظاہرین کا خون بہایا، معیشت کو پابندیوں کے سامنے قربان کر دیا، خواتین کو ظالمانہ قوانین میں جکڑا اور ایران کو علاقائی جنگوں کی آگ میں دھکیلا۔

ان کے انتقال کے بعد ایران ایک بڑے سیاسی خلاء میں داخل ہوا  کوئی واضح جانشین نہ تھا اور پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے، غیر یقینی دور میں داخل ہو رہا تھا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

آیت اللہ علی خامنہ ای  |  19 اپریل 1939ء  28 فروری 2026ء  |  86 سال  |  36 سال دورِ اقتدار

Comments

Popular posts from this blog

Why Pakistan Air Force is Among the World’s Strongest Forces

جنوبی پنجاب کے منفرد پہاڑی مقام فورٹ منرو کی سیر

ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی، جہاں اس کا والد ایک شعبے کا انچارج تھا