مولانا شمس الحق افغانیؒ کا تاریخی جواب قادیانی جج کے منہ پر طمانچہ بن گیا

 

     جب مولانا شمس الحق افغانیؒ نے قادیانی جج کو لاجواب کر دیا 

ختمِ نبوت کا ایمان افروز واقعہ جو قادیانی جج کو لاجواب کر گیا!
برصغیر کے عظیم عالمِ دین مولانا شمس الحق افغانیؒ کو ایک قادیانی جج نے عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے پوچھا:
🗣️ “مولانا! نبوت آخر ہے کیا؟”
مولانا شمس الحق افغانیؒ نے پورے وقار اور حکمت سے جواب دیا:
“نبوت ایک بلند ترین منصب ہے، یہ صرف وہی حاصل کرتا ہے جسے اللہ ربّ العزت خود منتخب فرماتا ہے۔”
قادیانی جج نے طنزیہ انداز میں کہا:
“جب یہ منصب اتنا اعلیٰ ہے تو اسے سب کے لیے عام کر دینا چاہیے۔”
📜 یہ سن کر مولانا نے جیب سے 100 روپے کا نوٹ نکالا (جو اس وقت بہت بڑی رقم شمار ہوتی تھی) اور فرمایا:
💬 “یہ نوٹ کیسا لگتا ہے؟”
قادیانی جج بولا:
“یہ تو اعلیٰ اور قیمتی ہے۔”
مولانا بولے:
“چونکہ یہ اتنی قیمتی چیز ہے، تو میں بھی ایک مہر بنا کر خود اپنے جعلی نوٹ تیار کر لیتا ہوں اور بازار میں عام کرتا رہتا ہوں۔”
قادیانی جج فوراً بولا:
“یہ جرم ہے! جعلی نوٹ بنانا ریاست کے خلاف بغاوت ہے، اس کا اختیار صرف حکومت کو ہے!”
🌟 اس پر مولانا شمس الحق افغانیؒ نے تاریخی جواب دیا:
“بالکل درست فرمایا! جیسے نوٹ بنانے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے، بالکل ایسے ہی نبوت دینے کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اور چونکہ آپ لوگوں نے اللہ کی اجازت کے بغیر ایک جعلی نبی کھڑا کیا ہے، تو آپ سب اللہ کی نگاہ میں مجرم ہیں۔”
---
✨ یہ واقعہ نہ صرف ایمان کو تازہ کرتا ہے بلکہ ختم نبوت پر ایمان کو مضبوط بھی کرتا ہے۔
📢 آئیے! اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں، کیونکہ یہی
نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا عملی اظہار ہے۔
🔸 اللّٰھم صل علیٰ محمد وآل محمد
---
📌 اضافی تاریخی حقیقت:
مولانا شمس الحق افغانیؒ کا شمار دیوبند کے عظیم علمائے کرام میں ہوتا ہے۔
آپ نے تحریکِ ختمِ نبوت میں بھرپور کردار ادا کیا، اور عدالتوں میں قادیانیوں کو دلائل کے ساتھ لاجواب کیا۔
یہ واقعہ کئی کتابوں میں موجود ہے اور علمائے دیوبند کی جرأتِ ایمانی کی روشن مثال ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Why Pakistan Air Force is Among the World’s Strongest Forces

جنوبی پنجاب کے منفرد پہاڑی مقام فورٹ منرو کی سیر

ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی، جہاں اس کا والد ایک شعبے کا انچارج تھا