مولانا شمس الحق افغانیؒ کا تاریخی جواب قادیانی جج کے منہ پر طمانچہ بن گیا
جب مولانا شمس الحق افغانیؒ نے قادیانی جج کو لاجواب کر دیا
ختمِ نبوت کا ایمان افروز واقعہ جو قادیانی جج کو لاجواب کر گیا!
مولانا شمس الحق افغانیؒ نے پورے وقار اور حکمت سے جواب دیا:
“نبوت ایک بلند ترین منصب ہے، یہ صرف وہی حاصل کرتا ہے جسے اللہ ربّ العزت خود منتخب فرماتا ہے۔”
قادیانی جج نے طنزیہ انداز میں کہا:
“جب یہ منصب اتنا اعلیٰ ہے تو اسے سب کے لیے عام کر دینا چاہیے۔”
قادیانی جج بولا:
“یہ تو اعلیٰ اور قیمتی ہے۔”
مولانا بولے:
“چونکہ یہ اتنی قیمتی چیز ہے، تو میں بھی ایک مہر بنا کر خود اپنے جعلی نوٹ تیار کر لیتا ہوں اور بازار میں عام کرتا رہتا ہوں۔”
قادیانی جج فوراً بولا:
“یہ جرم ہے! جعلی نوٹ بنانا ریاست کے خلاف بغاوت ہے، اس کا اختیار صرف حکومت کو ہے!”
“بالکل درست فرمایا! جیسے نوٹ بنانے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے، بالکل ایسے ہی نبوت دینے کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اور چونکہ آپ لوگوں نے اللہ کی اجازت کے بغیر ایک جعلی نبی کھڑا کیا ہے، تو آپ سب اللہ کی نگاہ میں مجرم ہیں۔”
---
نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا عملی اظہار ہے۔
---
مولانا شمس الحق افغانیؒ کا شمار دیوبند کے عظیم علمائے کرام میں ہوتا ہے۔
آپ نے تحریکِ ختمِ نبوت میں بھرپور کردار ادا کیا، اور عدالتوں میں قادیانیوں کو دلائل کے ساتھ لاجواب کیا۔
یہ واقعہ کئی کتابوں میں موجود ہے اور علمائے دیوبند کی جرأتِ ایمانی کی روشن مثال ہے۔

Comments
Post a Comment