: خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی عظیم کرامت
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی عظیم کرامت
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے جلیل القدر خلیفہ، قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ دہلی میں مقیم تھے۔ اس دور کے بادشاہ آپ کی عقیدت میں سرشار اور آپ کے مریدین میں شامل تھے، مگر ایسی عظیم شخصیات کو ہمیشہ حاسدوں کا سامنا رہتا ہے۔
سازش اور جھوٹا الزام
بدخواہوں نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی بدنامی کے لیے ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے ایک بے حیا عورت کو آمادہ کیا کہ وہ آپ پر بہتان لگائے۔
یہ شرمناک عورت قاضی کی عدالت میں حاضر ہوئی اور اپنی گود میں موجود بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی ناجائز اولاد ہے۔
یہ خبر آگ کی طرح پورے دہلی میں پھیل گئی۔ لوگ حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ سب حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے بلند مقام و مرتبہ سے واقف تھے۔ کسی کو بھی اس بات پر یقین نہیں آیا، لیکن قاضی کو مجبوراً آپ کو عدالت میں طلب کرنا پڑا۔
حضرت خواجہ معین الدین کی آمد
جب یہ خبر اجمیر شریف میں نائب رسول ﷺ فی الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچی تو آپ نے فوری طور پر سفر کی تیاری کی اور فرمایا: "ہم خود اپنے قطب کی طرف سے عدالت میں پیش ہوں گے۔"
جب دہلی میں یہ اطلاع ملی کہ خود حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے خلیفہ کا دفاع کرنے تشریف لا رہے ہیں، تو شہر میں ہلچل مچ گئی۔ بادشاہ خود شہر کے دروازے پر حضور کے استقبال کے لیے پہنچا اور انتہائی ادب و احترام سے انہیں عدالت تک لے گیا۔
معجزانہ فیصلہ
عدالت میں ایک طرف وہ عورت اپنے بچے کے ساتھ کٹہرے میں کھڑی تھی اور دوسری طرف حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ موجود تھے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے عورت سے پوچھا: "تمہارا کیا دعویٰ ہے؟"
اس نے کہا: "یہ بچہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد ہے۔"
پھر حضرت خواجہ غریب نواز نے قاضی سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اگر یہ بچہ خود بتا دے کہ اس کا باپ کون ہے، تو کیا یہ گواہی کافی ہوگی؟"
قاضی حیران ہو کر بولا: "یہ کیسے ممکن ہے؟ شیر خوار بچہ کیسے گواہی دے سکتا ہے؟"
حضور نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔"
قاضی نے کہا: "اگر بچہ گواہی دے دے تو پھر کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں۔"
کرامت کا ظہور
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے بچے کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: "اے بچے! بتا، تو کس کی اولاد ہے؟"
پوری عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ سب کچھ ایسا ہونے والا تھا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
اچانک اس معصوم بچے کی آواز کمرے میں گونج اٹھی: "میں فلاں وزیر کی اولاد ہوں۔"
بچے کی اس گواہی نے سب کو ششدر کر دیا۔ قاضی نے فیصلہ سنا دیا اور وہ وزیر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ عظیم کرامت نے پورے دہلی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
Comments
Post a Comment