جب جدّہ ائیرپورٹ پر بمعہ سامان ہم Taxi میں بیٹھنے لگے تو خود سے کلام کیا کہ کون کہتا ہے کہ معجزات گئے دور کی باتیں ہیں
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
-
Jab Masjid E Nabvi Ke Minar Nazar Aaye
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے -
جب جدّہ ائیرپورٹ پر بمعہ سامان ہم Taxi میں بیٹھنے لگے تو خود سے کلام کیا کہ کون کہتا ہے کہ معجزات گئے دور کی باتیں ہیں. ہم جیسے، جانبِ مدینہ ہوں تو کیا یہ معجزہ نہیں ہے ؟؟؟
سنا ہے گزرے وقتوں میں معجزات ہوا کرتے تھے. پر یہ کیا ہوا کہ آجکل کے دور میں بھی ایسا ہونے لگا ؟ جب جدّہ ائیرپورٹ پر بمعہ سامان ہم Taxi میں بیٹھنے لگے تو خود سے کلام کیا کہ کون کہتا ہے کہ معجزات گئے دور کی باتیں ہیں. ہم جیسے، جانبِ مدینہ ہوں تو کیا یہ معجزہ نہیں ہے ؟؟؟
سوا چار گھنٹے کے اس سفر کی شروعات آج سے 6 سال پہلے 13000 فیٹ کی بلندی پر ہوئی تھی.امریکہ جاتے ہوۓ سیٹِ کے سامنے لگی سکرین پر نظر پڑی تو معلوم ہوا اس وقت ہمارا جہاز مدینہ پاک کی فضاؤں سے گزر رہا ہے. خوشی اور دکھ کی ملی جلی کیفیات کا اس دن ہم نے پہلی بار مشاہدہ کیا، خوشی اس بات کی کہ کس قدر با برکت فضا سے گزر رہے ہیں اور دکھ یہ کہ کس قدر محروم ہیں کہ گزر تو رہے ہیں لیکن یہاں کی چند ساعتیں ہمارے نصیب میں نہیں. خوشی اور دکھ کی اس کیفیت کے بعد اچانک شرمندگی کی ایک گہری چادر نے ہمیں لپیٹ لیا.ہمیں یہ سوچ آئی کہ مدینے نہ جانے کے دکھ کا کیا تذکرہ ، پہلے یہ بتاؤ وہاں جانے کے لیے کیا کبھی تڑپتے دل سے دعا مانگی ؟ پڑھنے والے سب ساتھی ماشااللہ اہل علم ہیں اور اس بات سے بخوبی واقف ہوںگے کے سب سے سخت سوالات تھانے، عدالت یا کمرہ امتحان میں نہیں پوچھے جاتے. یہ سوالات آپ کا ضمیر آپ سے پوچھتا ہے. اور پھر آپ کے اندر سے بالکل سچا جواب آتا ہے.بہت بار یہ سچ بہت کڑوا، سخت اور ظالم ہوتا ہے لیکن اس کی سچائی پر کوئی شبہ نہیں ہوتا. سِیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی ہم سوال و جواب کے مرحلوں سے گزرتے رہے. وہ رب جو کائنات کے ہر ذرے سے واقف ہے، ہماری دلی کیفیت سے بخوبی آگاہ تھا. ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں، جہاز لینڈ کرنے سے پہلے ہی ہم اس دنیا کے معاملات کی طرف لوٹ آۓ اور دوبارہ بہت عرصہ تک ہمارا دھیان اس طرف نہ جا سکا. تقریباً 2 سال پہلے ڈاکٹر صاحب کے ایک انتہائی شفیق دوست سینئر سرجن نے اپنی لکھی کچھ کتابیں ہمیں بھجوائیں. مختلف موضوعات پر لکھی ہوئی ان کتب میں ایک کتاب سفرِحج کے بارے میں تھی. ہماری بچپن سے ایک عادت ہے جس سے ہماری امی بہت زچ تھیں، جب کوئی کتاب ہمارے ہاتھ میں آۓ تو ہم اسے ختم کر کے ہی رکھتے ہیں. سفر نامہ حج بھی ہم نے ایک ہی بار میں ختم کیا اور سو گئے.اس رات ہم نے زندگی میں پہلی بار رات کو خواب میں مسجد نبوی کے مینار کی زیارت کی. صبح ڈاکٹر صاحب سے خواب کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ کتاب سفر نامہ حج نہیں بلکہ دعوت نامہ حجاز معلوم ہوتا ہے. خیر بات آئی گئی ہو گئی. پھر وقفے وقفے سے گھر میں عمرہ کی بات ہونے لگی. کچھ کورونا کی پابندیاں ابھی باقی تھیں اور شاید ابھی ہمارا وہ وقت تھوڑا دور تھا جو ہمارے رب نے ہمارے لیے مقرر فرمایا تھا.خیر اس دوران دنیا کے کئی حصوں میں آنا جانا رہا لیکن ادھر سے بلاوے کا انتظار ہی رہا. کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیه اسلام کو پہاڑ پر جلتی ہوئی آگ کا شبہ ہوا اور وہ آگ لینے گئے اور واپسی پر نبوت لے کر آۓ. ہم لاکھ گناہ گار سہی مگر جس الله کے موسیٰ علیه اسلام نبی تھے ہم بھی اسی پروردگار کی مخلوق ہیں. تو جناب ہم بھی شرم الشیخ گھومنے گئے اور عمرہ کی سعادت لے کر واپس آۓ. خیر اب ہم دوبارہ جدّہ ائیرپورٹ سے شروع کرتے ہیں.ٹیکسی میں سوار ہونے سے لے کر مدینہ میں داخل ہونے تک ، وقت کیسے گزرا، یقین جانئیے کچھ پتہ نہیں چلا. یقین و بے یقینی، اور سونے جاگنے کے درمیان کی سی کیفیات تھیں. الله سے دعا مانگی کہ اے الله یہاں تک لایا ہے تو اپنے رسول کے روضہ سلام پیش کرنے اور کعبہ پاک کی زیارت کا موقع عطا فرما. مدینہ پاک میں داخل ہونے سے ذرا پہلے آنکھ لگ گئی اور جیسے ہی آنکھ کھلی تو مسجد نبوی کے مینار نظر آۓ، دھڑکتے ہوۓ دل کے ساتھ خود کو یقین دلانے کے لیے ڈرائیور صاحب سے پوچھا کہ بھائی یہ مینار ؟ وہ بولا جی باجی یہ حرم نبوی کے مینار ہیں. تو جناب کچھ عرصہ قبل ہم نے جو خواب دیکھا تھا اس میں ہو بہو یہی منظر الله پاک نے ہمیں دکھایا تھا. اپنی خوش نصیبی پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہم جیسے بھی یہاں تک آ گئے. بچپن میں ایک نعت سنتے تھے تو کجا من کجا مدینہ پاک کی تو بس الگ ہی برکتیں ہیں. نہایت خوش اخلاق لوگ، فضاؤں میں ایک عجیب سی کشادگی. ہوٹل پہنچے اور نہا دھو کر عشاء کی نماز مسجد نبوی میں ادا کرنے روانہ ہوۓ.ہوٹل اور مسجد نبوی میں بس چند قدم کا فاصلہ تھا. یہاں ہمیں اپنے ساس سسر بہت یاد آۓ اور دل سے ان کے لیے دعا نکلی کہ اگر میں یہاں ہوں تو الله نے اس کا وسیلہ ڈاکٹر صاحب کو بنایا ہے اور یہ ان کے والدین کی نیک تربیت ہے کہ وہ مجھے بھی یہاں لاۓ. مرحومہ بانو قدسیہ سے مجھے بہت محبت تھی. اور بہت معاملات میں وہ میرے لیے مشعلِ راہ رہی ہیں. ان کا فرمانا تھا کہ اگر کوئی آپ پر احسان کرے اور جواباً آپ اس کے لیے کچھ اور نہ کر سکیں تو اس کے لیے دعا کر دیا کریں تو ہم بس یہی کرتے ہیں.میرے ساس سسر ماشااللہ ہر لحاظ سے خوشحال اور خود کفیل ہیں تو ان کے لیے دعا ان کے احسانات کا جواب ہے. حرم نبوی میں کچھ خاص بات ہے، خزانہ کھلا ہے جتنا برتن آپکے پاس ہے اتنا آپ بھر لیں گے. الحمدلللہ ڈاکٹر صاحب کا برتن برکت والا تھا، انھیں بغیر کسی Appointment کے ریاض الجنّه میں نماز تہجد سے نماز فجر تک کا وقت مل گیا.
جسے چاہا بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
ہمیں ہماری ایک محسنہ کی محنت سے کرسی پر کھڑے ہو کر جالی مبارک اور ریاض الجنه دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی. ڈاکٹر صاحب کی قسمت پر بہت رشک آیا. پھر ان کی نرم طبیعت، ہمدرد دل ار انکساری کی طرف ذہن گیا.سنا ہے الله اور الله کے آخری نبی کو یہ اعمال بہت پسند ہیں شاید اسی لیے وہ اس سعادت سے نوازے گئے. میرے جیسے کے لیے تو یہ بھی بڑی سعادت تھی کہ اس مقام مقدس تک نظروں کی رسائی نصیب ہوئی. مسجد نبوی میں تین نمازیں اور نفل نصیب ہوۓ. جنت البقیع کے سامنے کھڑے ہو کر جب ان جلیل القدر شخصیات کا تصور کیا جو یہاں غریق رحمت ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو گئے.حضرت بی بی خدیجہ، حضرت بی بی فاطمہ، حضرت بی بی عائشہ، حضرت عثمان بن عفان، ناموں کی ایک فہرست تھی. ایک سے ایک جلیل القدر، سبحان الله. ہمارے خاندان کے ایک نوجوان کو بھی الله پاک نے جنّت البقیع عطا فرمایا. اور ہم جیسے بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ جنّت البقیع کے مکینوں میں ہمارا رشتے دار بھی شامل ہے. الله پاک اس کی اور ہم سب کی مغفرت فرمائیں، آمین. نماز ظہر ادا کر کے اور احرام باندھ کر ہم مدینہ سے روانہ ہوۓ.ہمارے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے ایک دوست اور ہمارے محسن میاں بیوی بھی تھے جنہوں نے ہر قدم پر ہماری رہنمائی کی اور ان کی رہنمائی سے ہم مسجد قبیٰ پہنچے. یہ اسلام کی پہلی مسجد تھی جس کی تعمیر میں نبی پاک نے خود حصہ لیا اور یہاں 2 نفل نماز کا ثواب مقبول عمرہ کے برابر ہے. ہم نماز ادا کر کے باہر نکلے تو اپنی محسنہ کو باہر پریشان پایا. انھیں کوئی بزرگ ملے جو کہ اپنے رشتے داروں سے الگ ہو کر بھٹک رہے تھے اور قوتِ گویائی سے محروم تھے.ہماری محسنہ جس طرح بزرگ کو تسلی دے رہی تھیں اور ان کی مدد کی کوشش کر رہی تھیں اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ الله ایسے ہی مقام سے نہیں نوازتا.
دردِ دل کے لیے پیدا کیا انسان کو ورنہ عبادت کے لیے کم نہ تھے کروبیاں
مسجد قبیٰ کی زیارت کے بعد وہ میاں بیوی ہمیں جبلِ احد لے گئے . وہاں قبرستان میں فاتحہ پڑھی، یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے اس مقام پر حضور کے پیارے چچا اور دوست حضرت حمزہ دفن ہیں.احد کے پہاڑ کو دیکھا اور اس پہاڑی کو بھی دیکھا جہاں نبی پاک کے مقرر کردہ تیر انداز اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور جیتی ہوئی جنگ کا پانسہ بدل گیا. اس کے بعد ہمارے محسن ہمیں بصد اصرار کھانے کے لیے لے گئے. تا کہ ہم مکہ پاک تازہ دم ہو کر پہنچیں اور جاتے ہی کھانے وغیرہ میں وقت ضا ئع نہ ہو. الله ان کے دسترخوان میں برکت دے. اور ان کے لیے آسانیاں ہوں.بے حد لذیز کھانے سے لطف اندوز ہوۓ. یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا چاہوں گی . ہم ٹیکسی میں تھے اور ہمارے دوست اپنی گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ. ھم سب کھانے کے لیے اندر گئے اور انہوں نے ہوٹل اسٹاف کو ہدایت کی کہ ڈرائیورز جو بھی مرضی آرڈر کریں اور لطف اندوز ہوں. بل آپ اوپر ہمارے پاس بھیج دیں. یہ ایک بہت خوبصورت روایت تھی. ان دونوں سے بہت سیکھنے کا موقع ملا، الله ان کو ان کی اچھائی کا بہترین نعم و بدل عطا فرماۓ، آمین. ہمارے شکریہ کے بدلے میں ان کا ایک ہی جواب تھا. آپ الله کے مہمان ہیں اور آپ کا خیال رکھنا ہماری خوشی. الله انھیں اور ان کے والدین کو حشر کے روز سرخرو کرے، آمین. کھانے سے فراغت پا کر ہم نے اجازت چاہی اور مکّہ کی طرف روانہ ہوئے�
پاکستانی ایئر فورس – فخرِ پاکستان پاکستانی ایئر فورس دنیا کی بہترین فضائی افواج میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔ جب بھی ملکی دفاع کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے ذہن میں شاہینوں کا وہ قافلہ آتا ہے جو اپنے خون اور جان کی پرواہ کیے بغیر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ پاکستانی ایئر فورس کی تاریخ قربانیوں، بہادری اور عزم و ہمت کی لازوال داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا پاکستانی شاہینوں کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔ تاریخ اور آغاز پاکستان کی فضائیہ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے فوراً بعد وجود میں آئی۔ ابتدا میں یہ فورس بہت محدود وسائل کے ساتھ قائم کی گئی تھی۔ نہ جہاز زیادہ تھے، نہ پائلٹس، اور نہ ہی کوئی بڑی ٹیکنالوجی میسر تھی۔ لیکن ایک چیز تھی جو ان تمام کمیوں کو پورا کرتی تھی، اور وہ تھا جذبۂ ایمانی اور وطن سے محبت۔ چند پرانے جہازوں کے ساتھ یہ فورس میدان میں اتری لیکن اپنے حوصلے اور ہمت سے دنیا کو حیران کر دیا۔ 1965 ء کی جنگ میں جب دشمن نے پاکستان کی فضائی حدود کو للکارا تو یہی ایئر فورس تھ...
جنوبی پنجاب کے منفرد پہاڑی مقام فورٹ منرو کی سیر جنوبی پنجاب کا حُسن، فورٹ منرو کہتے ہیں کہ حُسن دیکھنے والے کی آںکھ میں ہوتا ہے۔ لیکن بات کی جائے اگر زمینی حُسن کی تو پاکستان نے اپنے خوبصورت، دلفریب، سرسبز و شاداب اور منفرد سیاحتی مقامات کی بدولت سب کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ جنوبی پنجاب کا حُسن، فورٹ منرو ربِ کائنات نے چاروں موسموں کی طرح پاکستان کے ہر خطے کو منفرد مقامات اور زمینی خوبصورتی سے نوازا ہے۔ پنجاب پانچ دریاؤں کی سرزمین جو اپنے میٹھے پانی، سرسبز فصلوں اور طرح طرح کی سوغاتوں کی وجہ سے مشہور ہے اور پھر جنوبی پنجاب کے میدانی علاقے صحرا، ریگستان، مٹی، ریت اور گرم و خشک آب و ہوا سے پہچانے جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے سیاحتی مقامات پر نظر ڈالیں تو فورٹ منرو ایک ایسا منفرد پہاڑی مقام ہے جو پنجاب کے باسیوں کو شمالی علاقہ جات جائے بغیر ایک دلکش سیاحتی مقام کی سیر کراتا ہے اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ فورٹ منرو جنوبی پنجاب کا مری ایک خوبصورت پہاڑی مقام ہونے کے سبب فورٹ منرو کو جنوبی پنجاب کا مری بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کا موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے اور بارش کی صورت ...
یہ واقعہ دمشق، شام میں پیش آیا۔ ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی، جہاں اس کا والد ایک شعبے کا انچارج تھا۔ ایک دن یونیورسٹی سے چھٹی کے فوراً بعد موسلا دھار بارش اور ژالہ باری شروع ہوگئی، جس سے ہر کوئی پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگا۔ سردی میں شدت آگئی، اور اس لڑکی نے بھی یونیورسٹی سے نکل کر پناہ کی تلاش شروع کردی، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ کہاں جائے۔ بارش مزید تیز ہوئی تو اس نے ایک دروازہ کھٹکھٹایا، جسے ایک نوجوان نے کھولا اور اسے اندر آنے کی اجازت دی تاکہ بارش تھم جائے۔ دونوں کا آپس میں تعارف ہوا تو پتا چلا کہ وہ نوجوان بھی اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور اس شہر میں اکیلا رہتا ہے۔ اس نے لڑکی کو کمرے میں آرام کرنے کا کہا اور ہیٹر اس کے قریب رکھ دیا تاکہ کمرہ گرم ہو جائے۔ لڑکی سردی کے باعث تھوڑی دیر بستر پر کانپتی رہی، لیکن جلد ہی نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ نوجوان جب ہیٹر لینے کے لیے کمرے میں داخل ہوا تو اسے وہ لڑکی جنت کی حوروں کی سردار محسوس ہوئی، لیکن وہ فوراً ہی کمرے سے باہر نکل آیا۔ تاہم، شیطان اسے مسلسل گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، اور لڑکی کے بارے میں غل...
Comments
Post a Comment