برطانوی ہندوستان کی تقسیم کی ان کہی کہانی اور اس کا لاکھوں لوگوں پر اثر

 

 1857 سے 1947 تک: ایک سفر جس نے سلطنت کو توڑا اور قوموں کو جنم دیا

یہ وہ سفر ہے جس نے ایک سلطنت کو توڑا، دو قوموں کو جنم دیا، اور لاکھوں کی قربانیوں کی داستان چھوڑی۔ آج ہم جانیں گے کہ انگریزوں کی 'ڈِوائڈ اینڈ رُل' پالیسی نے کیسے ہندوستان کو تقسیم کیا، مہاتما گاندھی اور قائد اعظم کے درمیان کشمکش کیا تھی، اور کیا تقسیم واقعی 'ٹھیک' تھی... یا پھر ایک سیاسی فراڈ؟

آغاز: 1947 کا منظر

اگست 1947 میں جب بھارت اور پاکستان قائم ہوئے تو یہ اس اعتبار سے بھی ایک منفرد واقعہ تھا کہ ان ممالک کے قیام کا اعلان تو پہلے ہو گیا تھا، لیکن ان ممالک میں شامل ہونے والے علاقوں کا فیصلہ آئندہ کئی ماہ تک نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ ہندوستان کی سیاسی اور انتظامی تقسیم تھی۔ ایک طرف پر تاجِ برطانیہ کی حکومت تھی جسے برطانوی فرماں روا کے مقرر کردہ وائسرائے دہلی سے چلاتے تھے۔

برطانوی ہندوستان کی تقسیم

برطانوی ہندوستان میں 11 صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور یہاں انتخابات اور قانون ساز اداروں کی تشکیل کا عمل جاری تھا۔ تاہم، ہندوستان کے تقریباً 40 فیصد رقبے پر کم و بیش 600 کے قریب ریاستیں تھیں جن میں مہاراجہ، نواب، اور دیگر حکام برسرِ اقتدار تھے۔ ان ریاستوں میں سے حیدرآباد جیسی بڑی ریاست بھی تھی، جس کی آبادی اور رقبہ برطانیہ سے بھی زیادہ تھا۔

برطانوی حکمت عملی: 'ڈِوائڈ اینڈ رُل'

برطانوی مؤرخ لینرڈ موسلی اپنی کتاب 'لاس ڈیز آف برٹش راج' میں لکھتے ہیں کہ ان چھوٹی بڑی ریاستوں میں بہت کچھ مختلف تھا، مگر ایک بات مشترک تھی، دہلی میں بننے والے قوانین کا ان پر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ ان ریاستوں کی سیاست برطانوی خارجہ پالیسی کے تحت چلتی تھی اور برطانوی حکومت کبھی کبھار ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتی تھی۔

ہندوستانی شاہی ریاستیں: ایک پیچیدہ نظام

امریکی مؤرخ باربرا راموسیک نے ہندوستان کی شاہی ریاستوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے:

1.    قدیم ریاستیںوہ ریاستیں جو مغل سلطنت سے پہلے کی تھیں اور سولہویں صدی میں مغلوں کی ماتحت ہو گئیں۔

2.    جانشین ریاستیںوہ ریاستیں جو مغل سلطنت کے زوال کے بعد قائم ہوئیں جیسے اودھ، بنگال، اور حیدرآباد۔

3.    مقامی ریاستیںوہ ریاستیں جو مغل سلطنت کے زوال کے بعد مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے قائم ہوئیں جیسے بھوپال اور رام پور۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کا اثر: پلسی سے 1947 تک

1757 میں پلاسی کی جنگ کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال میں اپنی حکمرانی کی بنیاد رکھی، جس کے بعد اس نے ہندوستان بھر میں اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ کمپنی نے مقامی ریاستوں میں اپنے کمرشل ایجنٹس کو ریزیڈنٹس بنا کر ان ریاستوں میں سیاسی معاملات میں بھی مداخلت کرنا شروع کیا۔

تقسیم اور اس کے اثرات

تین جون 1947 کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اعلان کیا کہ تقسیم کے منصوبے پر عمل درآمد دو ماہ میں کر لیا جائے گا۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں برطانیہ کے حکومتی نظام میں براہِ راست تبدیلی آئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت چلنے والا انتظام تاجِ برطانیہ کے ماتحت کر دیا گیا۔

1857 کی بغاوت: تقسیم کے بیج

1857 کی بغاوت نے برطانیہ کو ہندوستان میں اپنے اقتدار کا نظم و نسق براہِ راست سنبھالنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد ہندوستان میں تاجِ برطانیہ کا نظم قائم کیا گیا اور شاہی ریاستوں کو برطانیہ کے تابع کر لیا گیا۔

آخری مرحلہ: 1947 کی تقسیم

برطانوی حکومت نے 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ پاکستان اور بھارت کی صورت میں نکلا۔ اگرچہ یہ تقسیم سیاسی مفاد میں کی گئی، مگر اس کی قیمت ہزاروں افراد نے اپنی جان سے چکائی۔ اس تقسیم نے نہ صرف قوموں کو جنم دیا بلکہ کئی دہائیوں تک خونریز فسادات کا باعث بھی بنی۔

نتیجہ

1947 کی تقسیم ایک تاریخ ساز لمحہ تھا، لیکن اس کا اثر آج تک ہندوستان و پاکستان کی سیاست پر موجود ہے۔ اس سفر نے نہ صرف دو قوموں کو جنم دیا بلکہ برطانوی حکمت عملی، سیاسی جھگڑوں اور طاقت کے کھیل کا ایک نیا باب بھی لکھا۔ تقسیم کی حقیقت کیا تھی؟ ایک نیا آغاز یا ایک سیاسی فراڈ؟ یہ سوالات ہمیشہ اُٹھتے رہیں گے، لیکن تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سیاست میں مصلحتوں اور مفادات کی جیت ہوتی ہے، انسانیت کی نہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Why Pakistan Air Force is Among the World’s Strongest Forces

جنوبی پنجاب کے منفرد پہاڑی مقام فورٹ منرو کی سیر

ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی، جہاں اس کا والد ایک شعبے کا انچارج تھا