ایک فلم جسے بننے میں 10 سال لگے، پیسے ختم ہو گئے، اداکارہ مرنے کو تھی… پھر بھی مکمل ہوئی۔ ؟
مغلِ اعظم (1960) – وہ فلم جس نے سنیما کی تاریخ بدل دی
اگر برصغیر کی فلم انڈسٹری کا کوئی “تاج محل” ہے تو وہ مغلِ اعظم ہے۔ یہ فلم محض ایک فلم نہیں، ایک عظیم الشان خواب تھا جو 10 سال میں پورا ہوا۔
مغلِ اعظم کی پروڈکشن کی مکمل تفصیلات (جدول)
شعبہ | حیران کن تفصیلات | لاگت (اس زمانے کی) |
کل بجٹ | ₹1.5 کروڑ (آج کی ویلیو میں تقریباً ₹1500–1800 کروڑ) | ₹1.5 crore |
شوٹنگ کا دورانیہ | 1951–1960 → پورے 9 سے 10 سال | – |
شوٹنگ کے دن | 500 سے 600 دن | – |
سب سے مہنگا گانا | “پیار کیا تو ڈرنا کیا” (شیش محل والا) | ₹10 لاکھ سے زیادہ |
شیش محل کا سیٹ | بیلجیم سے 5 لاکھ سے زائد اصل آئینے درآمد کیے گئے، ہر آئینہ ہاتھ سے لگایا گیا | ₹6–7 لاکھ |
رنگین حصہ | صرف آخری 3 ریلز (کلائمیکس + 2 گانے) Technicolor میں رنگین کیے گئے | اضافی ₹5 لاکھ |
کل فوٹیج شوٹ | 8 لاکھ فٹ (تقریباً 140 گھنٹے) → فائنل فلم صرف 17,322 فٹ (3 گھنٹے 13 منٹ) | – |
زنجیروں والی چادر | 15–20 کلو وزنی، اصلی لوہے کی زنجیریں، مدھوبالا نے 3 دن تک مسلسل شوٹ کیا | – |
تلوار بازی کا سین | دلیپ کمار اور پرتھوی راج کپور نے اصلی تلواریں استعمال کیں، کوئی ڈپلیکیٹ نہیں | – |
پنکھ والا مشہور سین | 100 سے زائد ٹیک لیے گئے، آخر میں ایک ہی پنکھ پسند آیا | – |
موسیقی | نوشاد صاحب نے 5 سال تک کام کیا، ہر دھن کلاسک راغ پر مبنی | – |
ڈائیلاگز | ہر جملہ اردو کے بڑے شاعروں سے چیک کروایا گیا | – |
باکس آفس | 11 سال تک انڈیا کی نمبر 1 فلم، 2001 میں رنگین ری ریلیز ہوئی تو دوبارہ سپر ہٹ | ₹11 کروڑ+ (اصل ریلیز) |
8 حیرت انگیز حقائق جو شاید آپ نہیں جانتے
1. فلم کا نام پہلے “انارکلی” رکھا گیا تھا، پھر بدلا گیا۔
2. 1957 میں پروڈکشن تقریباً بند ہو گئی تھی کیونکہ پروڈیوسر شیریر شاہ کے پیسے ختم ہو گئے۔ شاپورجی پالونجی (ٹاٹا گروپ) نے آخری دو سال کا خرچ اٹھایا۔
3. مدھوبالا دل کی بیماری کی وجہ سے اکثر سیٹ پر بیہوش ہو جاتی تھیں، پھر بھی زنجیروں والا سین 3 دن تک شوٹ کیا۔
4. دلیپ کمار اور مدھوبالا بریک اپ کے بعد ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔ سارے رومانوی سین “کیو کارڈ” سے ڈائیلاگ بولے گئے۔
5. “شیش محل” کا سیٹ شوٹنگ کے بعد مکمل طور پر توڑ دیا گیا – آج تک اس کی ایک بھی تصویر باقی نہیں۔
6. فلم کے صرف 4 پرنٹس پہلے دن نکلے تھے (ممبئی، دہلی، لاہور، حیدرآباد)۔
7. “جھوم جھوم کے دو دیوانے” گانا اصل میں فلم میں نہیں تھا، پبلک ڈیمانڈ پر بعد میں شامل کیا گیا۔
8. 2004 میں مکمل رنگین ورژن ریلیز ہوا تو دوبارہ باکس آفس پر دھوم مچ گئی۔
یہ فلم صرف ایک فلم نہیں… یہ ہندوستانی سنیما کی عظمت کی آخری مثال ہے۔ آج جب ہم نیٹ فلکس پر 10 دن میں بنی فلم دیکھتے ہیں تو سوچیں، ایک زمانے میں ایک فلم کو بنانے میں پوری ایک دہائی لگ جاتی تھی۔
کیا آپ نے مغلِ اعظم کا مکمل رنگین ورژن دیکھا ہے؟ یا آپ اب بھی پرانا بلیک اینڈ وائٹ والا ہی پسند کرتے ہیں؟ نیچے کمنٹ ضرور کریں ♡
#MughalEAzam #MughalEAzamFacts #SheeshMahal #Madhubala #DilipKumar #ClassicBollywood #BollywoodHistory #IndianCinema #KAsif #PyarKiyaToDaronaKya #مغل_اعظم #شیش_محل #مدھوبالا #دلیپ_کمار #کلاسیکل_بالی_ووڈ

Comments
Post a Comment