گل پلازہ سانحہ: سرچ آپریشن حتمی مراحل میں داخل، عمارت سیل کرنے کا فیصلہ

73 جاں بحق افراد میں سے 23 کی شناخت، ڈی این اے میچنگ جاری، غفلت کے پہلوؤں پر تفتیش تیز


گل پلازہ میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد جاں بحق افراد کی لاشوں اور باقیات کی تلاش کے لیے جاری ریسکیو اور سرچ آپریشن اب اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی ٹیموں نے عمارت کے تقریباً تمام حصوں کی مکمل چھان بین کر لی ہے، جبکہ صرف ایک محدود حصہ باقی رہ گیا ہے جہاں تاحال کسی لاش کی موجودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں جاری سرچ آپریشن تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور عمارت کو کل باقاعدہ طور پر سیل کر دیا جائے گا تاکہ شواہد کو محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا اور تمام ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جاوید نبی کے مطابق واقعے کے بعد مجموعی طور پر 82 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم کئی افراد کی شناخت اور تصدیق کے عمل میں مشکلات کا سامنا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خاندانوں کی جانب سے ایک ہی شخص کے مختلف نام فراہم کیے گئے، جس کی وجہ سے ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں وقت لگا۔ اب تک 23 افراد کے ڈی این اے میچ ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 73 جاں بحق افراد میں سے 23 کی باقاعدہ شناخت کر لی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ 13 افراد ایسے ہیں جنہیں ابتدا میں لاپتا قرار دیا گیا تھا لیکن ان کے ورثا کی جانب سے ابھی تک ڈی این اے سیمپلز فراہم نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے شناخت کا عمل مکمل نہیں ہو پا رہا۔ انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے ڈی این اے نمونے فراہم کریں تاکہ باقی ماندہ لاشوں کی شناخت ممکن بنائی جا سکے اور ورثا کو بروقت اطلاع دی جا سکے۔

دوسری جانب، ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی عمل تیز کر دیا گیا ہے اور واقعے سے متعلق مختلف افراد کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کے چوکیدار سمیت دیگر عملے کے بیانات حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔

عارف عزیز کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 6 سکیورٹی گارڈز تعینات تھے اور ان تمام کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی سٹی نے مزید انکشاف کیا کہ ایک ڈی وی آر (DVR) بھی برآمد کیا گیا ہے، جس کی مدد سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے اور واقعے کے وقت کی صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آگ لگنے کے بعد دروازے کیوں بند رہے اور بروقت انہیں کیوں نہیں کھولا گیا، تاکہ لوگوں کے انخلا میں تاخیر کی وجوہات سامنے آ سکیں۔

حکام کے مطابق تفتیشی عمل کے دوران عمارت کی فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، سکیورٹی انتظامات اور انتظامی ذمہ داریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں

Comments

Popular posts from this blog

Why Pakistan Air Force is Among the World’s Strongest Forces

جنوبی پنجاب کے منفرد پہاڑی مقام فورٹ منرو کی سیر

ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی، جہاں اس کا والد ایک شعبے کا انچارج تھا